& Poets

Book Review Urdu

Khazina'tul Kitab

 

 

خزینتہ الکتاب

مصنف : جازم ایس آئزک 

صفحات : 240

 

 

 

 

اشاعت : بار اول، 2012 (لاہور: جمیس ایس جالب)

 

جلد: دیدہ زیب   ہارڈ بائنڈنگ 

 خزینتہ الکتاب تبصرہ نگاروں کی نظر میں:

 

 خزینتہ الکتاب جازم کی علمی تحقیق  اور ان کے مسیحی مطالعہ  کا ایک منہ بولتا ثبوت اور نایاب خزانہ ہے . مصنف کی علمی بصیرت  اور ان کی   مسیحی تاریخ کے متعلق  جانکاری محدود نہیں . انہوں نے علم کے گہرے اور کھلے سمندر میں غوطہ خوری  کر کے ایسے لاجواب اور بےمثال تاریخ کے سچے موتی تلاش کیے اور بصورت "خزینتہ الکتاب" قلمی لکیروں کی لڑیوں میں پروتے ہوے کاغذ کی زینت بنا کر آپ کے ہاتھوں میں دیے ہیں .

 

اگر آپ "خزینتہ الکتاب" کو صدق دل سے بائیبل کے ساتھ رکھ کر پڑھے گے تو یقینن روحانی اعتبار سے ترو تازگی محسوس کریں گے .

 

ریورنڈ ڈاکٹر سلیم آرتھر 

تصنیف  : ادئیگی قرض 

مشنری اینڈ فاونڈنگ پاسٹر انچارج ساوتھ   ایشین  چرچ آف کینیڈا 

 

-----------------

کلام مقدس کے خزینے کو عالمانہ انداز میں دنیا اور مسیحی کلیسیا کے سامنے پیش کرنا جزم کا نمایاں اور منفرد کام ہے . لگتا ہے  جیسے مصنف نے یک سوئی سے ایک ہی طریقہ  تحقیق جاری رکھا تا کہ کلام پاک سے تواریخی  حقیقت اور تسلسل بھی عنقا نہ ہو جاۓ  اور نہ ہی انبیا کرا م کا خداوند جلیل سے مقالمہ منقطع  ہو.  کلام پاک  کا تواریخی پہلو اور خداۓ ذوالجلال کا  وجود بدستور جاری و ساری دکھائی دیتا ہے . ایسا لگتا ہے یہ تواریخ ہے ہی قادر مطلق کی، اور اس کے بندے نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اس کے احکام کی اطاعت بجا لاتے ہیں . 

 

اتنی بڑی ذمہ داری کو خندہ پیشانی اور انتھک محنت سے تیار کرنا ایک وصف عظیم ہے جس کے مستحق قابل صد آفرین جناب آئزک جازم صاحب ہیں  .

 

ڈاکٹر منور ڈین  (ایم  اے . پی ایچ ڈی - سائیکالوجسٹ)

تصانیف : زاد سفر، مسیح کی خوشبو ، روحانی چٹان ،الفا اور اومیگا  اور فضیلت مسیح 

 

---------------------

 

خزینتہ الکتاب ہر اعتبار سے آگے کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے  جوکہ مسیحی امت کے لیے ایک بیش قیمت خزانہ ہے  اورجازم  صاحب کی شخصیت کی  نمایاں چھاپ ہے . اس کی زبان سادہ اور مبالغے سے پاک ہے. 

 

یہ کتاب قابل غور بھی ہے اور قابل ستائش بھی - لہذا اگر میں کہوں کہ جازم صاحب کی تصنیف اردو میں مسیحی مذھب سے متعلق ایک بلند مقام کی حامل و حقدار ہے تو مبالغہ نہ ہو گا . میری امید اور دعا ہے کہ خزینتہ الکتاب ہماری کلیسیاوں کے لئے توجہ ، دلچسپی اور سبق آموزی کا مرکز بن جاۓ .

 

پروفیسر یونس وہاب (ایم اے -ہسٹری ، ایم اے -ایجوکیشن ، بی پی -ایجوکیشن)

 

-------------------
پاک تثلیث جوعقل انسانی سے بالاتر ہے  بڑا ہی گہرا بھید ہے . جب تک ایک نفسانی انسان نئے سرے سے پیدا نہ ہواور دل کی آنکھیں نہ کھلیں اس بھید کو نہیں سمجھ سکتا .   "تیری باتوں کی تشریح نور بخشتی ہے - وہ سادہ دلوں کو عقلمند بناتی ہے " (زبور 119 : 130 ) 

مصنف نے بڑی محنت اور لگن سے بائبل مقدس کے حصوں کا انتخاب کیا ہے ، اور اپنی شخصی زندگی میں کلام مقدس کی پاکیزگی کے اثر و پیمان کی آمیزش بھرتے ہوۓ ایسے طریقے سے اس تعلیم الہی کے سچے موتیوں کو خزینتہ الکتاب کی مالا میں پرویا ہے کہ الفاظ، محاورات، اور انداز بیاں کی ہرطور  سے روشنیاں بکھرتی ہیں اور ہر خاص و عام کے لئے برکت اور روح کی معموری کا وسیلہ بنتی نظر آتی ہیں .   

پادری الیگزنڈر ڈیوڈ (نیو کوانینٹ چرچ آف کینیڈا) 

 

Dhupan, Chanwan, Jhariyan by Dr. Bashir Khazzan

 

 
 
نام کتاب :  دھپاں ، چھانواں ، جھڑیاں 
شاعر : ڈ اکٹر  بشیر خزان  نادان (امریکہ )

سن: 2012
پبلشر: گا سپل پرنٹنگ پریس (لاہور)                                                                        
صفحات :248

 

تبصرہ نگار : نعیم واعظ  (لندن، یو کے )

 

 

ڈاکٹر بشیر خزان نادان صاحب  سے میرا غایبانہ تعارف سن 1985  سے ہے۔  آپ کی اُردو  شاعری  کی کتاب  ، رختِ سفرـ ِپادری عمانویل انجیلی مرحوم کی وساطت سے پڑھنے کو مِلی، اِس  طرح سے آپ کو  مزید جاننے کا موقعہ میسر ہوا۔ جب  ڈاکٹر صاحب کی پنجابی شاعری کی نٔی  کِتاب  دُھپاں، چھانواں ،  جھڑیاں،  ایک  اور کرم فرما کی معرفت پڑھنے کا  شرف  نصیب  ہوا  تو  داد  دینے کو  اِس  قدر دِل چا ہا کہ قلم  اٹھاۓ بغیر  رہا  نہ گیا. 

 

 

گو میرا تعلق پنجاب سے ہے، اور پنجابی میری مادری  زُبان ہے  لیکن  میں  بولنے اور  سُننے کی حد تک  پنجابی  ہوں۔  پنجابی

 لِکھنا  اور  پڑھنا ہر پنجابی  کے  بس کی بات  نہیں۔

 

ڈاکٹر بشیر خزان نادان صاحب  کی کِتاب دُھپاں، چھانواں ،  جھڑیاں،  اپنے اندر بہت سے معنی اور یادیں چھپاۓ ہوۓ ہے۔ کتاب کا نام پڑھتے ہی  پنجاب  کے دیہات کا مخصوص  کلچر، ماحول اور موسم  نظروں کے سامنے آ جاتا ہے۔اور یوں بےشُمار یادوں کے دریچے کھُل جاتے ہیں۔ دیہات کا ماحول  سمجھنے  والے جانتے ہیں کہ کڑکتی دُھوپ،ٹاہلی کی گھنی چھاؤں، برگد کے پیڑ،  برسات  کی جھڑی،  جوہڑ،  کھال  اور  نہریں  کیا معنی رکھتی ہیں۔ 

 

شاعر  موصوف طویل  عرصہ  سے امریکہ میں بُودوباش رکھنے کےباوجود آج بھی اپنی مٹی  سے جُڑے  ہُوے نظر آتے  ہیں۔ اپنے گاؤں اور بچپن کی تمام یادیں  اور ذایٔقےآج بھی اُنکا  سب سے مُعتبر حوالہ ہیں۔  ڈاکٹر صاحب شاعری  کی زبان میں بہت گہری اور سچی باتیں کرتے ہیں، اور اُنکی باتوں  میں جذبات کی نمی اور احساس کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ 

 

میرا خیال ہے کہ  دُھپاں، چھانواں ،  جھڑیاں  کے معنی صِرف  وہی نہیں  جو  میں  پہلے بیان کر  چُکا  ہُوں  بلکہ اِس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ایک  محنت کش کا بیٹا اپنی زندگی کی ابتدایٔ کڑکتی دھوپ کی مانند سختیوں، تلخیوں،  اور حقیقتوںکو جھیلنے کے بعد کامیابی اور کامرانی کی چھاؤں میں بیٹھا ماضی کے سودوزیاں  کا حِساب کرتے ہوے  اپنی  تلخ  و شیریں یادوں کو جو اُس کے اندر  جھڑیوں کی صورت میں موجود ہیں، اشعار کی صورت میں قاریٔن کے سامنے بھرپور تاثر کے  ساتھ پیش کرتانظر آتا ہے۔ 

 

ڈاکٹر صاحب  جہاں ماضی کی رواداری اور محبتوں کا ذِکر کرتے ہیں وہیں اُنہیں احساس ہے کہ جو خلوص اور محبت، برداشت اور  رواداری  گٔے دنوں میں ہمارے  معاشرے اور  بالخصوص ہمارے  دیہاتی کلچر کا خاصہ تھا  وہ  اَب عنقا ہو چکا  ہے۔ :ملاحظہ  فرما  یٔں

 

کٹھا  جیوناں  مرنا  سی   وسنیکاں  دا 

جھگڑا   ڈِٹھا   سُنیا   نہ  شریکاں   دا

اونج  دا ایکا اج  تے لبھیاں  لبھدا  نیٔں

پِنڈ  پِنڈ  کال   سنیندا  اے  شرِیفاں   دا

 

ڈاکٹر بشیر خزاں  صاحب  محبت  کے شاعر ہیں۔  اُنکے   کلام  میں  اپنے  عقیدے

اپنی دھرتی، سماج، اپنے رِشتوں اور دوستوں سے محبت کا اظہار جابجا  مِلتا ہے۔  جہاں وہ اپنے ماضی کے ساتھ جُڑے نظر آتے  ہیں، وہیں وہ ہرحال میں خُداۓبزرگ وبرتر کے حضورسجدہ ریز نظر آتے ہیں۔

 

سوہنے رَب نے  مہربے  انت  کیتی

بے  وُقعت  نو  ککھ  تو   لکھ  کیِتا

بخشن  ہار  نُو  گندھ چوں کِیہ  لبھا

ڈیگھ کُوڑے چو  لعل  نو  وکھ  کِیتا

 

ڈاکٹر  صاحب  کے کلام میں اُن کے اندر چھُپا ہوا صوفی شاعر پورے قدوقامت کے ساتھ نظر آتا ہے۔میں ڈاکٹر صاحب کو اِس خوبصورت کِتاب کو منظرِعام پر لانے پر مُبارکباد دیتا ہُوں ۔  یہ کتاب، دُھپاں، چھانواں ،  جھڑیاں،  خوبصورت سرِورق،  عُمدہ  چھپایٔ، اور نہایت  خوبصورت  کلام  دُنیاے ادب  میں یقینن اک انمول  اضافہ ہے۔

 

(Editor's note:   Naeem Waiz is cuwap.org's  UK representative and book reviewer.)          

Mudawa by Isaac S. Jazzam

 

 

نام کتاب:مداوا

 شاعر:جازم ایس. آئزک (مقیم کینیڈا)
 سن اشاعت:٢٠١٠ 

پبلشر: مسیحی اشاعت خانہ، لاہور

صفحات :٢٧٢ 

 مسیحی شاعری کا یہ دیدازیب مجموعہ جہاں پرا یک طرف شاعر کی گہری روحانی بصیرت اور اسےشعری پیراے میں قلم بند کرنے کی قابل تحسین کوشش ہے وہاں پر دوسری طرف یہ  ایک  عام شخص کی روزمرہ زندگی سے پیدا ہونے والے تجربون کی تلخیوں سے  نمٹنے کیلئے مسیحی ایمان کی لا زوال سچائیوں سے حاصل ہونے والی بے پناہ قوت ارادی اور اطمینان قلب کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے . چند 

ا شعارملاحضہ ہوں: 

 

 مشکلوں میں مسکرانا  دے  گیا

مجھ کو رحمت کا خزانہ دے گیا

 *****

سر جھکے گا یہ نہ ہرگز غیر کے آگے کبھی

 میرا یسوع  ہے  میری  اس  زندگی  کا   بادشاہ

*****

جان جاتی ہے چلی جاۓ مجھے پرواہ نہیں 

ہر  ستم  منظور  ہے یسوع  کو  پانے  کیلئے

شاعری مشکل کام ہے ، بامقصد شاعری مشکل تر ہے ، اور روحانی صداقتوں اور داخلی تجربات کوزبان دانی  کی حدود و قیود میں رہ کر شاعری کرنا مشکل ترین عمل ہے . اس مرحلے پر صرف مٹھی بھرشاعروں کو کامیابی نصیب ہوتی ہے. جازم ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جواپنی اندرونی کیفیتوں اورداخلی تجربات کو ایسے ترنم اور روانگی کے ساتھ بیان کرنے میں کامیاب ہوے ہیں کہ پڑھنے والے کو محسوس  ہوتا ہے کہ شاعرحالت جذب میں، یا وجد میں  پھرکسی الہامی کیفیت میں قلم چلا رہا ہو - ان کی طویل  نظم "تقویٰ اورایمان " (صفحات ٦٥ تا ٧٦ )اس قدر روح پرور اور مترنم اشعارکا مرقح  ہے کہ بار بار پڑھنےکو جی چاہتا ہے.

 چند  ا شعارملاحضہ ہوں:

نقش کرتا ہوں میں اپنے جان اور ایمان  سے 

میں بھٹک جاؤں نہ زندہ باپ کے پیمان سے 

*****

ہے نہیں منزل میری،  دنیا،  یہ  رنگ  کائنات 

میرا نہ کچھ واسطہ ہےجھوٹ اور بطلان سے

*****

ہو   عقیدہ    میرا    از    راہ   تقد س   کلوری

جس جگہہ مکتی ملی مجھ کو میرے زندان سے

 

اس کے علاوہ یہ نظم بائبل مقدس کے بہت سے حوالوں اور واقیات  سے مزین ہے. 

جازم عشق مسیحا میں کس قدر  ڈوبا ہوا ہے اس کا اندازہ  مندرجہ ذیل اشعار سے لگایا جا سکتا ہے .

مجھ کو یسوع کےدر پر گرا رہنے دو 

 اس کے دم سے یہ دامن ہرا رہنے دو   

*****

اس کے چرنوں میں مجھ کو ملا ہے سکوں

آج    جازم   کو   یونہی   پڑا  رہنے   دو

*****

سامنا ہو جاۓ بیشک موت کے طوفان سے

ڈر نہیں کوئی مجھے یسوع میرا مندوب ہے 

*****

خود نمائی نہ رہی جازم کو اپنی  ذات کی 

شاعری کا یہ میرا دیوان بھی یسوع کا ہے

اس کتاب  میں جازم اسی عشق مسیحا سے سرشار ہو کراکثرمقامات  پراس کی  حمد و ستائش کرنے اور گیت گانے میں مگن نظر آتا ہے ، ملاحضہ ہو:

دل میرا خوشیوں سے تاباں ہوگیا 

راستہ   جیون  کا  آساں  ہو  گیا
*****

اجڑا اجڑا تھا سبھی  گلشن  میرا 

پھر بیانباں  سے خیاباں ہو  گیا

*****

کروں حمدو ثنا اس کی ہے جب تک جاں میں جاں باقی

میرا  بھی  نام   ہو  جازم   مسیح   کے  جانثاروں   میں

مداوا جیسی، صداقتوں سے پر ، عرفان اورتصوف کے جواہر سے مزین ، زبان دانی  اور ادب کی بلندیوںپر قادر ہونےکی آئنہ دار اور مسیحی اردو ادب میں ایک   با وقاراضافےکی ضمانت کتاب پر تبصرہ لکھنا مجھ جیسے ناچیز سے توکیا بن پاۓ گا یہ کام تو کسی عالم کے لیے بھی جاں جوکھوں کامرحلہ  ثابت ہوتا . 

لہٰذا تمام پڑھنے والوں  سے گزارش ہے کہ وہ مندرجہ بالا حقیر سی کاوش کو کتاب هذا کے تبصرے کی بجاے اس کا مختصر سا تعارف سمجھ کر قبول فرمائیں . جہاں پر میں اردو زبان کی باریکیوں کو سمجھنے کے سلسلے میں اپنی کوتاہیوں کا معترف ہوں وہاں پر میں بڑے وثوق کے ساتھ یہ رقم کر رہا ہوں کہ جناب جازم ا یس آئزک صاحب کو اردو زبان اور مسیحی ایمان کے بیان ، دونوں پر جو کمال حاصل ہے وہ  قابل رشک بھی ہے اور قابل تعریف بھی .

(اختر انجیلی)      

Al-Quds by Dr. Y.M.Yad

 
 

 

 

                  

نام کتاب:القدس(یروشلیم)

محقق و مصنف: ڈاکٹر یوسف مسیح یاد

ناشر:مکتبہ عناویم (گوجرانوالہ)

سن اشاعت: ٢٠٠٣

صفحات :١٦٤

 

 

القدس(یروشلیم شہر)، گزشتہ کئی صدیوں سے یہودیت ، مسیحیت ، اور اسلام، تینوں ابراہیمی مذاہب کے

پیروکاروں کے لئے مذہبی عقیدت، روحانی وابستگی ، اور سیاسی و فوجی کشمکش کا مرکز بنا رہا ہے . جو بین الاقوامی اہمیت اس

شہر

کو نصیب ہوئی ہے دنیا کے کسی اور شہر کو نہیں ہوئی.اور جتنی خون ریزی اور تباہ کاریاں اس شہر کے حصہ میں آئی ہیں ک اورشہر کے حصہ میں نہیں آئیں . تاریخ ، ادب، سیاسیات لسانیا ت، اور مذاہب عالم کا کوئی س طالب علم اس شہر کی مرکزی اہمیت کو نظرانداز نہیں کر سکتا ،

ڈاکٹر یوسف مسیح یاد، نےجہاں اور متعدد اہم مضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور اپنی تحقیق، تالیف اور فن تصنیف کا لوہا کئی بار منوایا ہے ، وہاں پر انھوں نے "القدس (یروشلیم)" لکھ کر ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ موجودہ مسیحی علما میں آپ مسیحی تاریخ کے ہر اہم پہلو پر عالمانہ عبور رکھتے ہیں . اس کتاب کو پڑھنے سے یوں لگتاہے گویا کہ مصنف نے اس شہر میں ایک عمر گزاری ہو ، شہر کی منظرکشی کچ اس انداز سے کی گئی ہے کہ یہ سب آنکھوں دیکھا حال محسوس ہوتا ہے.

سب سے پہلے یروشلیم کا محل وقوع بیان کیا گیا ہے . سات پہاڑوں سے گھرا ہوا یہ خوبصورت شہر مسیحیوں کے لئے اس لئے بھی بہت دلچسپی کاباعث ہے کہ ان پہاڑوں میں تین پہاڑی چوٹیاں ایسی ہیں جن کاتعلق براہ راست خداوند یسو ع مسیح کی زمینی خدمت سے ہے : ٹھوکر کا پہاڑ،کوہ کلوری اور صعود کاپہاڑ.

ڈاکٹر صاحب نے یروشلیم کی تاریخ اور تاریخی واقعیات کی اہمیت اور ان کی تاریخیت پر بھی کھل کے روشنی ڈالی ہے. کتاب کے باب سوئم "تاریخی پس منظر " میں وہ اس کی تاریخ ٢٠٠٠ ق م سےشرو ع کرتے ہیں (آثارقدیمہ کا حوالہ ). یہ ابتدائی طور پر یبوسیوں کا شہر تھا ،پھریوسیفس(یہودی موؤرخ ) اور مقدس صحا یف کے متعددحوالے دے کر مصنف اس کی تاریخ کے مختلف ادوارکا احاطہ کرتا ہے. یہ شہر متعدد بارتباہ ہوا(بقلم ڈاکٹر یاد صفحہ٢٥: ٢٠ بار ،بقلم ڈاکٹرعا صی صفحہ ١٠ ٧ بار ) تاہم مختلف مورخؤںمیں بھی اس بات میں اختلاف پایا جاتا ہے، اہم بات یہ ہے کہ شہر جتنی مرتبہ تباہ ہوا اتنی مرتبہ پھرتعمیر ہوا . یروشلیم کی آخری تباہی سن ٧٠ میں طیطس کے وقت میں ہوئی (اس تباہی کی پشین گوئی خداوند یسوع مسیح نی کی تھی ).اسکے بعد یروشلیم مسیحی تاریخ کا مرکز بن گیا .

مصنف نے شہرکی منظر کشی میں اس کی گلیوں ، دیواروں ، دروازوں اور پھاٹکوں کا بھی بڑا مفصل ذکر کیا ہے . ان دروازوں اور پھاٹکوں کا ذکر بائبل مقدس کی آیات کے حوالے دے کر پڑھنے والے کے لئے روحانی مسرت کاسبب بنتا ہے . صفحہ ٨١ پر یہودی حب الوطنی اوردینداری کے حوالے سے مشہور زمانہ دیوار گریہ کا بھی تفصیلی ذکر ملتا ہے.
 

یروشلیم کا تعلق ٦ ہیکلوں سے ہے.
١. عارضی اورسادہ خیمہ گاہ جو بنی اسرائیل عبادت اور دینی رسومات کے لیےاستمعلل کرتے تھے.
٢. پہلی باقاعدہ ہیکل جوحضرت سلیمان نے بنوائی.
٣. دوسری ہیکل زروب بابل کے ساتھ یہودیوں نے ٧٠ سالہ اسیری کے بعد بنائی
٤.تیسری ہیکل ہیرودیس نے بنوائی جو خداوند یسو ع مسیح کے وقت میں قائم تھی
٥. خداوند یسو ع مسیح کا بدن (یوحنا ٢: ١٩-٢١)
٦ .آسمانی ہیکل یعنی آنے والے یروشلیم کی ہیکل

 

ڈاکٹر صاحب نے مسیحیت کے حوالے سے اس میں پاۓ جانے والے تمام مقامات زیارت کا بیان بھی بڑے دلچسپ اور مفصل طریقے سے کیا ہے. اس کے علاوہ القدس میں پائی جا نے والی کلسیاوں کی مکمل تفصیل اس کتاب میں موجود ہے. مسیحی طلبہ تاریخ اوردانشوروں کے لئے "القدس (یروشلیم)" ایک خاص تحفه ہے . میں نے گزشتہ چند ماہ میں اس کتاب کو کئی بار پڑھا ہے اور ہر بار ڈاکٹر صاحب کی محنت اور علمیت سے متاثر ہوۓ بغیر نہیں رہ سکا. میں چونکہ خود مسیحی تاریخ اور مسیحی اردو ادب کے حلقوں میں ابھی طفل مکتب کی حیثیت رکھتا ہوں اس لئے نہیں چاہتا کہ میرے یہ چند الٹے سیدھے جملۓ اس کتاب کے متعلق تبصرہ سمجھےجائیں . میرے ان جملوں کو اگر آپ اس کتاب کا ادنی سا تعا رف سمجھ کر قبول فرمائیں تو زیادہ مناسب ہو گا.

"القدس (یروشلیم )" اس موضوع پرایک نہایت عمدہ اور مکمل کتاب ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کا مطا لعہ آپ کے لئے بھی اتنی ہی برکت کا سبب ہو گا جتنا کہ یہ میرے لئے ہوا ہے.

(اختر انجیلی)